لکھنؤ،23؍ فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)صدر مایاوتی نے اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت پر ’انویسٹرس سمٹ‘کو لے کر آج نشانہ لگایا۔مایاوتی نے لکھنؤ میں ہوئی ’انویسٹرس سمٹ‘پر رد عمل میں کہا کہ مہاراشٹر اور کئی دیگر ریاستوں کے بعد اب اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت پر بھی ’انویسٹرس سمٹ‘کا بخار چڑھ گیا ہے۔پوری حکومت اسے سب سے بڑی عوامی خدمت مان کر مصروف رہی اور سرکاری خزانے کو پانی کی طرح بہایا گیا۔انہوں نے کہا کہ کہ صنعتی دھندے لگوانے کیلئے قانون ونظام کا درست ہونا ضروری ہے مگر موجودہ حالات میں تو ایسا نہیں لگتا کہ سرمایہ کار یہاں آنے میں کوئی خاص دلچسپی لیں گے۔ایسے میں یہ سمٹ صرف سیاسی اکھاڑے بازی اور شو بازی ثابت ہوگی۔مایاوتی نے کہا کہ ریاستی حکومت کو کئی سو کروڑ روپے بیکار میں خرچ کر کے’انویسٹرس سمٹ‘کرنے سے پہلے ریاست کے قانون ونظام کو چست درست کرنا چاہیے تھا۔اس دولت سے غریبوں، مزدوروں اور بے روزگار نوجوانوں اور باقی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے متعدد اہم کام کئے جا سکتے تھے۔بی ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ انویسٹرس سمٹ بی جے پی حکومت کی سخت ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومت، دونوں ہی اپنی وعدہ خلافی کی وجہ سے عوام کا بھروسہ کھو چکی ہیں۔